وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہوگئی، جبکہ ٹرانسپورٹرز نے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے صدر نبیل محمود طارق نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہیں اور حکومت ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔
جیو نیوز سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے نبیل محمود طارق نے کہا کہ حکومت کے بے لچک رویے کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ٹول ٹیکس میں کمی یا اس کی شرح کو ایک سال تک برقرار رکھنے پر بھی آمادہ نہیں ہے، جبکہ کسٹم اور لوڈ ایکسل کے حوالے سے معمولی رعایت دی جارہی تھی جو گڈز ٹرانسپورٹرز کو قبول نہیں۔
نبیل محمود طارق کا کہنا تھا کہ حکومت گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے ملکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کا درست اندازہ نہیں لگا رہی اور چند روز میں حکومت کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوجائے گا۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی مسلسل ہڑتال کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں سبزیوں اور پھلوں کی ترسیل بھی متاثر ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے۔
بلوچستان میں ہڑتال کے باعث مرغی سمیت بعض اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
کوئٹہ میں مرغی کے گوشت کی قیمت 500 روپے فی کلو سے بڑھ کر 550 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے سبزیوں کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔





















































































