واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ترکیے میں نیٹو اجلاس سے واپسی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے کو میزائل حملے سے نشانہ بنائے جانے کا خطرہ تھا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں معاملے سے باخبر امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کو متعدد ذرائع سے ممکنہ حملے کے بارے میں معلومات موصول ہوئی تھیں اور صدر ٹرمپ کے طیارے ایئرفورس ون کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنائے جانے کا خدشہ تھا۔
امریکی حکام کے مطابق نیٹو اجلاس کے قریب ایک شخص کو کندھے سے فائر کیے جانے والے میزائل کے ساتھ بھی دیکھا گیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ایران کو یہ بھی معلوم تھا کہ انقرہ میں صدر ٹرمپ کس عمارت اور اس کی کس منزل پر موجود تھے۔
ممکنہ ایرانی حملے کے خدشے کے پیش نظر صدر ٹرمپ کو خفیہ طور پر ایک فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق اسرائیل نے بھی امریکی انتظامیہ کو ممکنہ ایرانی حملے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی حکام کو خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ایئرفورس ون کو کندھے سے فائر کیے جانے والے میزائل سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کے برعکس کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا اور ممکنہ حملے کے خطرے سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کی صداقت بھی واضح نہیں ہوسکی۔





















































































