اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشتگردی سے متعلق اپنے گزشتہ روز کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے الفاظ کا غلط چناؤ ہوا، وہ ان علیحدگی پسند تنظیموں کی بات کررہے تھے جو تشدد کا راستہ اختیار کر رہی ہیں اور دہشتگردی میں ملوث ہیں۔
بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ بی ایل اے، سندھ قوم پرست اور ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں۔
جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں نے بلاول بھٹو سے ان کے اس بیان کے حوالے سے سوال کیا، جس پر انہوں نے واضح کیا کہ ان سے الفاظ کے انتخاب میں غلطی ہوئی تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ علیحدگی پسند تنظیموں کے بارے میں بات کررہے تھے جو تشدد کا راستہ اپنا رہی ہیں اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو افغانستان سے کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ سہولت کار ہمسایہ ملک میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہا پسند تنظیمیں ٹی ٹی پی کی صورت میں حملے کرتی رہی ہیں اور ان تنظیموں کے درمیان باہمی رابطہ کاری بھی موجود ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق دہشتگرد اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان روابط اور ان کی سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں۔





















































































