اسلام آباد: ملک میں سیاسی رابطوں میں تیزی آگئی ہے، حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں سے الگ الگ رابطے شروع کردیے ہیں، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ملاقات کے لیے اپنے چیمبر میں مدعو کیا ہے۔
حکومت اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے اور مختلف سیاسی معاملات پر بات چیت آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات سے قبل پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ اجلاس میں عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر من و عن عملدرآمد کا مطالبہ کیا جائے گا۔
سابق سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر نے سیاسی رابطوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کرے یہ سیاسی عمل کسی اچھائی کا پیش خیمہ ثابت ہو، تاہم اس وقت بنیادی معاملہ عمران خان کی صحت کا ہے اور تمام تر توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز اپنے وفد کے ہمراہ اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے مطابق پیپلز پارٹی نے عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اپوزیشن جماعتوں سے سیاسی رابطے بحال کرنے کی درخواست بھی کی۔
اپوزیشن اتحاد کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں سے پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آنے کی درخواست کی۔
اپوزیشن رہنماؤں نے بلاول بھٹو کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹیوں میں واپسی کے معاملے پر عمران خان سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے سیاسی رابطوں کے حوالے سے کہا کہ پارلیمانی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور رابطے معمول کے سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔





















































































