اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ایک سابق سینئر رکن نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو مبینہ طور پر ممنوعہ منشیات کے استعمال پر خبردار کیا تھا یا انہیں نشے سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک ٹاک شو کا پرانا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے، جس میں عمران خان کی کابینہ کے ایک سابق وزیر کو یہ الزام عائد کرتے سنا جاسکتا ہے کہ اس وقت کی عسکری اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے مبینہ منشیات کے استعمال سے آگاہ تھی اور انہیں اس سے دور رہنے کا کہا گیا تھا۔
اس دعوے سے متعلق رابطہ کیے جانے پر سابق سینئر اسٹیبلشمنٹ رکن نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران عمران خان کو اس نوعیت کی کوئی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس نہ کوئی ایسا ثبوت تھا اور نہ ہی کوئی رپورٹ موجود تھی جس سے یہ تصدیق ہوتی کہ عمران خان ممنوعہ منشیات استعمال کررہے تھے۔
ان کے مطابق یہ معاملہ بڑی حد تک سیاسی اور میڈیا حلقوں میں قیاس آرائیوں تک محدود تھا اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس ان الزامات کی کوئی تصدیق موجود نہیں تھی۔
اس معاملے نے 2023 میں اس وقت توجہ حاصل کی تھی جب سابق وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد کیے گئے طبی معائنے میں ان کے نمونوں میں شراب اور کوکین کے اجزا پائے گئے تھے۔
تاہم قومی احتساب بیورو کے پاس موجود طبی رپورٹس سے متعلق جون 2023 میں سامنے آنے والی معلومات نے ان الزامات کی تائید نہیں کی تھی۔
اس وقت نیب کے ایک باخبر ذریعے نے بتایا تھا کہ بیورو کے پاس موجود عمران خان کے خون اور پیشاب کی رپورٹس میں شراب یا کوکین کے استعمال کا کوئی اشارہ موجود نہیں تھا۔
ذریعے کے مطابق رپورٹس میں صحت سے متعلق معمول کی علامات سامنے آئی تھیں اور ان میں سابق وزیر صحت کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
عبدالقادر پٹیل نے 26 مئی 2023 کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ دوران حراست عمران خان کے طبی معائنے میں شراب اور کوکین سمیت مبینہ طور پر زہریلے کیمیائی مواد کی موجودگی سامنے آئی تھی۔
سابق وفاقی وزیر نے عمران خان کی ذہنی صحت اور استحکام سے متعلق بھی سوالات اٹھائے تھے، تاہم بعد میں طبی ماہرین نے ان دعوؤں کو چیلنج کیا تھا۔
2023 میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق طبی مواد کا جائزہ لینے والے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ دستیاب رپورٹ میں منشیات کے استعمال یا ذہنی عدم استحکام سے متعلق الزامات کی تصدیق نہیں ہوتی۔
بعد ازاں عمران خان نے عبدالقادر پٹیل کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھی بھیجا تھا، جس میں ان پر اپنی طبی حالت سے متعلق جھوٹی، گمراہ کن، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔





















































































