اسلام آباد: حکومت نے کاروبار کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نظام سے مقررہ مدت میں منسلک نہ کرنے پر سخت جرمانوں کی منظوری دے دی ہے، خلاف ورزی جاری رکھنے کی صورت میں جرمانہ 50 لاکھ روپے تک پہنچ سکتا ہے جبکہ کاروباری احاطہ سیل کرنے کی کارروائی بھی کی جاسکے گی۔
فنانس ایکٹ 2026-27 کے تحت کاروباری سرگرمیوں کی مانیٹرنگ، ٹریکنگ، رپورٹنگ اور فروخت و پیداوار کا ریکارڈ رکھنے کے لیے متعلقہ کاروباروں کو ایف بی آر یا اس کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔
قانون کے مطابق جو شخص یا کاروبار مقررہ مدت کے اندر ایف بی آر کے نظام کے ساتھ انضمام میں ناکام رہے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے گی۔
فنانس ایکٹ کے تحت پہلی مرتبہ مقررہ شرائط پوری نہ کرنے اور کاروبار کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک نہ کرنے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
قانون میں مسلسل خلاف ورزی کے لیے مزید سخت سزا بھی مقرر کی گئی ہے۔ پہلی سزا عائد ہونے کے ایک ماہ بعد بھی کاروبار ایف بی آر کے نظام سے منسلک نہ کیا گیا تو 50 لاکھ روپے تک دوسرا جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
نئے قانونی اقدامات کے تحت صرف مالی جرمانے ہی نہیں بلکہ مقررہ تقاضوں پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کاروباری احاطہ سیل کرنے کی کارروائی بھی کی جاسکے گی۔
ان اقدامات کا مقصد کاروباری لین دین، فروخت اور پیداوار کے ریکارڈ کو ایف بی آر کے نظام سے منسلک کرکے مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔




















































































