ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے پر کراچی سے اسلام آباد تک مارچ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
سندھ سمیت ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور بااختیار بلدیاتی نظام کے نفاذ کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی نے فیصلہ دے دیا ہے، تہذیب جیت گئی اور بدتہذیبی ہار گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ایک اور تاریخ رقم کی ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور ایم کیو ایم نے اپنا کراچی واپس لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ قافلہ کراچی سے اسلام آباد جائے گا تو پاکستان کا مقدر بن جائے گا۔ ان کے مطابق مطالبہ ہے کہ ملک میں عوامی اور اشتراکی جمہوریت قائم ہونی چاہیے۔
ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے عوام نے اختیارات کی منتقلی کے لیے ووٹ دے دیا ہے اور آج سے شراکت داری کا دور شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 سال کا صبر آج سڑکوں پر آ گیا ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ لوگ اندرون سندھ سے بھی نکل آئے ہیں اور اب موروثی سیاست دانوں سے جان چھڑانے کا وقت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکھر، میرپورخاص اور نواب شاہ کا میئر ایم کیو ایم کا ہوگا۔






















































































