وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ کئی برسوں سے ملکی معیشت کو کھا رہا تھا اور اس پر قابو پانا حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
یہ بات انہوں نے نیویارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے شعبہ توانائی کے گردشی قرضے کے خاتمے کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم کے مطابق گردشی قرضہ مسلسل بڑھ رہا تھا اور اس سنگین مسئلے پر قابو پانا اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں ٹاسک فورس نے آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے اور بھرپور محنت کے بعد قرضے کے خاتمے کا منصوبہ تشکیل دیا، جس پر آئندہ چھ سالوں میں عملدرآمد ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضے نے نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈال رکھا تھا، تاہم اتفاق رائے سے ایک واضح حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ایک سال سے مسلسل کوششیں جاری تھیں اور اس اسکیم کا آغاز ایک سنگ میل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر کے اسٹرکچرل مسائل حل کیے جا رہے ہیں اور اس منصوبے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ حال ہی میں ان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی معاشی بہتری کو سراہا گیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بجلی کے شعبے میں لائن لاسز اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں اور اگلے مرحلے میں ان پر قابو پانے پر توجہ دی جائے گی۔