افغانستان میں سرگرم مزاحمتی گروہ “افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ” نے افغان طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
گروپ کے چیئرمین اور سابق افغان جنرل سمیع سادات نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ طالبان کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس مہم کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔
جنرل سمیع سادات کے مطابق اس مرحلے کے دوران طالبان کے ارکان، ان کے ٹھکانوں اور قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے افغان فوج کی وردی میں اپنے ویڈیو پیغام میں یہ بھی کہا کہ ان کی تنظیم القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ برس بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
سابق افغان جنرل نے افغانستان کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اس تحریک کا حصہ بنیں۔
افغان طالبان حکومت کی جانب سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔





















































































