اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے کے سانحے کی تحقیقات کے باوجود اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آگ کیسے لگی، واقعے کے وقت متعلقہ عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا یا نہیں اور واقعے میں غفلت کا ذمہ دار کون ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز اسپتال کے عملے اور انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور اسٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
کمیٹی کی جانب سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی واقعے پر اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
پمز اسپتال کے دورے کے بعد ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ ایک روز قبل بتایا گیا تھا کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے لگی، تاہم اب معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ اے سی کام ہی نہیں کررہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ نرسری میں آگ کس طرح لگی۔ ان کے مطابق بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نرسوں کو ایک مخصوص بیان یاد کرا کر بٹھایا گیا تھا۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے واقعے کی خود تحقیقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ نرسری 1990 میں بنائی گئی تھی اور چھوٹے بچوں کو نئے بلاک میں قائم نرسری میں منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے بتایا کہ پمز اسپتال کے دورے کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ نرسری میں 15 نہیں بلکہ 40 سے 50 بچے موجود تھے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے سوال اٹھایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر بچوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کیسے کردیا گیا۔
سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیے بغیر سانحے کی مکمل انکوائری ممکن نہیں ہوگی۔
دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پیر کو اپنا اجلاس پمز اسپتال میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
پمز انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کیلئے 4 رکنی کمیٹی قائم کردی
پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے سانحے کے بعد اخلاقی بنیادوں پر استعفا دینے سے انکار کردیا ہے، جبکہ اسپتال انتظامیہ نے آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے اپنی الگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
پمز انتظامیہ نے پروفیسر ڈاکٹر عاطف انعام کی سربراہی میں 4 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے جسے 48 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نرسری میں آگ لگنے کی اصل وجہ اور اسپتال میں موجود فائر سیفٹی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
کمیٹی ریسکیو آپریشن کی افادیت اور واقعے کے بعد اداروں کے رسپانس ٹائم کی بھی جانچ کرے گی۔
تحقیقاتی کمیٹی کو واقعے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرنے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
پمز انتظامیہ کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عنیزہ جلیل کو بھی تحقیقاتی کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے اسی روز وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان بھی قلمبند کروایا تھا، جبکہ پمز کی اپنی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کے نوٹیفکیشن پر بھی ڈاکٹر عنیزہ نے خود دستخط کیے۔
وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی نے نرسری اسٹاف کے تحریری بیانات طلب کرلیے
سانحہ پمز کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی جانب سے قائم کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری میں تعینات عملے سے تحریری بیانات طلب کرلیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ بھی اپنے قبضے میں لے لی ہے اور واقعے کے وقت موجود اسٹاف سے مختلف سوالات کیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے ساتھ آگ لگنے کی وجوہات سے متعلق پمز انتظامیہ کے بیان کا ویڈیو ریکارڈ کے ساتھ موازنہ بھی کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے جبکہ پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر تحقیقاتی کمیٹی کے حوالے کردیا ہے۔
فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے بھی واقعے سے متعلق اپنی رپورٹس تحقیقاتی کمیٹی کو پیش کردی ہیں۔
جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 4 افسران نے کمیٹی کے سامنے اپنے تحریری بیانات بھی جمع کرادیے ہیں۔
وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر سانحہ پمز سے متعلق اپنی عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔






















































































