ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی اور مذاکرات بھی نہیں ہوں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ ایران جنگ سے پہلے والے مذاکراتی دور میں واپس نہیں جائے گا اور امریکا کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے تنازع کے حل کے لیے 7 شرائط مرتب کی ہیں، جو تحریری طور پر پاکستان اور قطر کے پاس موجود ہیں۔ محسن رضائی کے مطابق جب تک یہ شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی اور ایران مذاکرات میں واپس نہیں جائے گا۔
میجر جنرل محسن رضائی نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکی مہم جوئی کا حصہ نہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان ممالک نے ایرانی طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ دی تو ان کے اپنے ہوائی اڈوں سے بھی پروازیں نہیں اڑ سکیں گی۔
جنرل محسن رضائی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو جنگی جرائم کے ملزم اور شکست خوردہ جارح کا ’بھونڈا اور احمقانہ دفاع‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے آغاز سے اب تک ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ صرف اپنا دفاع کیا ہے۔
جنرل رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج پہلی مرتبہ اپنے میزائل کو براہِ راست ’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ بحری بیڑے کے اوپر اڑانے کے قابل ہوئی ہیں۔






















































































