پاک فوج نے افغانستان میں 10 مقامات پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معاون انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا۔
آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاک فوج نے انتہائی درست فضائی اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان حکومت کے زیرِکنٹرول علاقوں میں 10 مختلف مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس، سابقہ ٹوئٹر، پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے علاوہ ڈرون لانچ کرنے اور انہیں ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مقامات کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔
جاری کی گئی ویڈیو میں ان فضائی اور ڈرون حملوں کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات کا تعلق پاکستان کے اندر نہتے شہریوں کے خلاف ہونے والے دہشتگرد حملوں سے تھا۔ ان مقامات کو 23 ستمبر کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے ڈرون دراندازی کی حالیہ ناکام کوشش سے بھی منسلک قرار دیا گیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ جاری رکھے گا، بالخصوص ایسے ہر خطرے کے خلاف جو بیرونی سرپرستی، پناہ یا معاونت حاصل کرنے والے دہشتگرد پراکسی عناصر کی جانب سے لاحق ہو۔






















































































