نیپرا نے کے الیکٹرک کے اوسط بنیادی ٹیرف میں 19 فیصد کمی برقرار رکھتے ہوئے کمپنی کی اپیل مسترد کردی، تاہم کراچی کے تقریباً 35 لاکھ صارفین کو اس کمی کا براہِ راست فائدہ نہیں ملے گا۔
نیپرا کے فیصلے کے بعد کے الیکٹرک کا اوسط بنیادی ٹیرف 32.37 روپے فی یونٹ برقرار رہے گا، جو 2025 میں منظور کیے گئے 39.97 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 7.60 روپے کم ہے۔
نئے ٹیرف میں بجلی کی خریداری کے تقریباً 27.83 روپے فی یونٹ، ترسیل کے 2.40 روپے اور تقسیم کے 2.90 روپے کے اخراجات شامل ہیں، جبکہ سپلائی کے اخراجات میں تقریباً 0.78 روپے فی یونٹ کی کریڈٹ رقم بھی شامل کی گئی ہے۔
کے الیکٹرک نے ٹیرف میں کمی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، تاہم اپیلیٹ ٹربیونل نے کمپنی کی اپیل مسترد کردی۔
یہ معاملہ 27 مئی 2025 کو شروع ہوا تھا، جب نیپرا نے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں 6.15 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد مالی سال 2023-24 کے لیے کمپنی کا ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ ہوگیا تھا۔
کے الیکٹرک کا مؤقف
کے الیکٹرک کے ترجمان نے کہا ہے کہ نیپرا کے 20 اکتوبر 2025 کے فیصلوں کے خلاف کمپنی کی جانب سے دائر اپیلوں کے معاملے میں نیپرا نے اپنے فیصلوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، تاہم یہ حکم تاحال باضابطہ طور پر کے الیکٹرک کو موصول نہیں ہوا۔
ترجمان کے مطابق بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیپرا اپیلیٹ ٹربیونل نے حکم جاری کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے وکیل کے دلائل اور مؤقف پر غور نہیں کیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں مالی سال 2024 سے 2030 کی کنٹرول مدت کے لیے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ کے الیکٹرک نیپرا اپیلیٹ ٹربیونل کے تحریری حکم نامے کی منتظر ہے، جس کے موصول ہونے کے بعد دستیاب قانونی راستے اختیار کرنے پر غور کیا جائے گا۔






















































































