وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جبکہ معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کیلئے ایک اہم پیش رفت ہے۔
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 14, 2026
انہوں نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین نے فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق معاہدے میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
شہباز شریف نے امریکا اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تنازع کے حل کیلئے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے قطر کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ معاہدے تک پہنچنے میں قطر نے اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں متعدد مشاورتی ملاقاتیں ہوں گی جو تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی سرکاری تقریب کیلئے بنیاد فراہم کریں گی۔
ٹرمپ کا معاہدہ مکمل ہونے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے اسے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “سب کو مبارک ہو، ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے”۔
ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی اور بین الاقوامی جہازوں کیلئے دوبارہ کھول دیا جائے گا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔
ایران کا ردعمل
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد جمعہ سے شروع کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مزید مذاکرات ہوں گے اور آئندہ 60 روز کے دوران مختلف امور پر بات چیت جاری رہے گی۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق آئندہ مذاکرات میں پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی رکاوٹوں کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔




















































































