وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر گزشتہ 75 برسوں کے دوران پنڈی اور اسلام آباد کے درمیان آج جیسا تعاون اور ہم آہنگی موجود ہوتی تو پاکستان کئی اہم سنگ میل بہت پہلے حاصل کر چکا ہوتا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان نے ایک اہم جنگ لڑی تھی جس میں مسلح افواج نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت معاشی محاذ پر بھی ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے اور اس میں کامیابی کیلئے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں کی مشترکہ جنگ ہے، جس میں پوری قوم کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
خواجہ آصف نے امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 75 برسوں میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اتنی عزت اور پذیرائی ملتے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی محاذ پر حاصل ہونے والی کامیابیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے جبکہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی قومی یکجہتی ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت نے ایران کے ساتھ دہائیوں سے ہونے والی زیادتیوں کا احساس کیا ہے۔
انہوں نے خلیجی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات ختم کریں تاکہ غزہ اور فلسطین کے عوام کیلئے مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ علاقائی صورتحال کو جس انداز میں سنبھالا، وہ قابل تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کی کوششوں کا ثمر سامنے آ رہا ہے اور اگر اسی طرح اتحاد و اتفاق برقرار رہا تو فلسطین سمیت خطے کے دیگر مسائل کے حل میں بھی پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
وزیر دفاع نے ایرانی عوام اور قیادت کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں جس عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے۔




















































































