ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات اچانک منسوخ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی عمل کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ نہیں جائیں گے، جبکہ سوئس حکام نے بھی مذاکرات کی منسوخی کی تصدیق کر دی ہے۔
سوئس حکومت کے مطابق جمعے کو ہونے والی بات چیت اب پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی تیاری مکمل تھی اور امریکی وفد روانگی کیلئے تیار تھا، تاہم انتظامی اور سفارتی معاملات کو حتمی شکل نہ دی جا سکی۔
ترجمان نے کہا کہ ایسے مذاکرات ہمیشہ پیچیدہ اور غیر متوقع نوعیت کے ہوتے ہیں، اسی لیے فی الحال نائب صدر کا دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وفد کی شرکت کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ بعض سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران مزید پیش رفت سے قبل امریکا کی جانب سے وعدوں پر عملی اقدامات دیکھنا چاہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ کشیدگی بھی مذاکرات میں تاخیر کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔
اگرچہ مذاکرات منسوخ ہو گئے ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے سفارتی رابطے جاری رکھنے اور مستقبل میں بات چیت کا عمل آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔





















































































