بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی مبینہ “رہائی فورس” سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی آئینی عدالت میں تحریری جواب جمع کرا دیا، جس میں رہائی فورس کے وجود کی تردید کی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے جمع کرائے گئے آٹھ صفحات پر مشتمل جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ “بانی پی ٹی آئی رہائی فورس” نامی کوئی تنظیم کبھی قائم نہیں ہوئی۔ جواب کے مطابق اصل تصور “بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک” کا ہے، جو پُرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ نوعیت کی تحریک ہے، جس کا کسی مسلح ڈھانچے سے کوئی تعلق نہیں۔
تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آئینی درخواست سیاسی مقاصد، غلط بیانی اور مفروضوں پر مبنی ہے، اس لیے یہ قبل از وقت اور ناقابلِ سماعت ہے۔ جواب میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار بنیادی حقوق کی کسی خلاف ورزی کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آئینی درخواست کو ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کیا جائے اور بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئینی اور قانونی قرار دیا جائے۔
وفاقی آئینی عدالت نے اس کیس کی آئندہ سماعت 29 جولائی کو مقرر کر رکھی ہے۔


















































































