پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کسی کو عوام کے ووٹ اور حقِ رائے دہی پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس 30 پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کے شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کریں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک سیاسی جماعت کے ایک وزیر کے بیان کے بعد کشمیری عوام میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس خطے کے مسائل کے حل کے لیے ایک واضح حکمت عملی موجود ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے ایک “سچ اور مفاہمتی کمیشن” قائم کیا جائے، جو انتخابی عمل سے متعلق شکایات کی تحقیقات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے تک احتجاجی سرگرمیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے تو ان کی جماعت احتساب کے عمل کے لیے تیار ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مظفرآباد میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ جن پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کے الزامات سامنے آئے، وہاں ووٹنگ کا تناسب 99 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت چوہدری یاسین کو اسمبلی کا رکن بنوانے کے لیے اقدامات کرے گی اور نئے ایوان کی تشکیل سے پہلے پارٹی امیدواروں کی شکایات کے ازالے کی کوشش کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام تشدد اور طاقت کے زور پر انتخابات جیتنے والوں کو قبول نہیں کرتے، اس لیے انتخابات کے دوسرے مرحلے سے پہلے تمام تحفظات دور کیے جانے چاہییں۔
ان الزامات کے حوالے سے متعلقہ حکومتی حکام یا دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔




















































































