ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی ہزاروں بموں سمیت 2.8 ارب ڈالر کا دفاعی پیکیج فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس دفاعی پیکیج میں 2 ہزار پاؤنڈ وزن کے 40 ہزار بم شامل ہیں، جن میں 20 ہزار MK-84 اور 20 ہزار BLU-117 بم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فروخت کیے جانے والے ہتھیاروں میں 20 ہزار I-2000 پینیٹریٹر وار ہیڈز بھی شامل ہیں۔
مغربی ممالک کے فوجی ہتھیاروں میں سب سے زیادہ تباہ کن سمجھے جانے والے MK-84 بم کے دھماکے سے ہزاروں فٹ کے فاصلے تک ہر سمت دھات کے ٹکڑے پھیل سکتے ہیں۔ یہ بم دھات اور سخت کنکریٹ کو چیرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ایک امریکی اخبار کے مطابق اس دفاعی پیکیج کا حجم صدر جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ادوار میں اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی ہتھیاروں کی فروخت کے تمام سابقہ معاہدوں سے زیادہ ہے۔
اسرائیل غزہ اور لبنان میں سیکڑوں مواقع پر 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کر چکا ہے، جنہوں نے ان تنازعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ غزہ میں عام شہریوں کے لیے محفوظ قرار دیے گئے علاقوں پر بھی MK-84 بم گرائے جانے کے باعث اسرائیل کو شدید عالمی تنقید کا سامنا رہا ہے۔
واضح رہے کہ MK-84 وہ واحد ہتھیار تھا جس کی ترسیل صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے غزہ جنگ کے دوران فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل کے لیے روک دی تھی۔






















































































