واشنگٹن: امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی زیر زمین تنصیبات میں پہلے سے ذخیرہ شدہ پرزہ جات کی مدد سے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری دوبارہ شروع کردی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں میزائل سائٹس اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود ایران مائع اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائلوں کی اسمبلنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس معلومات میں خوجیر میزائل بیس سمیت ایران کے متعدد زیر زمین مقامات پر سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران مزید فضائی حملوں سے اپنے میزائل پروگرام کو محفوظ رکھنے کے لیے نئی زیر زمین تنصیبات تعمیر کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
امریکی اور علاقائی حکام کے مطابق ایران فی الحال پہلے سے موجود اور ذخیرہ شدہ پرزہ جات استعمال کرکے میزائل اسمبل کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے میزائلوں اور ان کے پرزہ جات کی تیاری سے متعلق کئی اہم صنعتی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ بحری ناکہ بندی کے باعث ٹھوس ایندھن کے اجزا اور دیگر ضروری پرزہ جات کی درآمد بھی انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔
عرب حکام کے مطابق مائع ایندھن تیار کرنے والی کیمیائی تنصیبات اور ٹھوس ایندھن کی تیاری میں استعمال ہونے والے صنعتی مکسرز کی تباہی ایران کے لیے بڑے پیمانے پر میزائلوں کی پیداوار میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا ایک مشکل ہدف ہے۔
رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران پلوں اور سڑکوں سے لے کر مختلف پیداواری مراکز تک تباہ شدہ انفراسٹرکچر تیزی سے دوبارہ تعمیر کر رہا ہے، جس پر اسرائیلی حکام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اخبار کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں متاثر ہونے والے میزائل اڈوں کی زیر زمین سرنگوں تک رسائی کے راستے بھی بحال کردیے ہیں۔
رپورٹ میں اسرائیلی فوج کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان زیر زمین تنصیبات کے اندر موجود ہتھیار ممکنہ طور پر اب بھی محفوظ حالت میں ہیں۔






















































































