وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ترمیم شدہ ایکٹ ابھی کابینہ سے منظور ہوا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے۔ وفاق کے پاس اس قانون کے حوالے سے کئی آپشنز موجود ہیں اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے بلکہ پولیس کی پوری کمانڈ کو بھی متاثر کردیا ہے۔ مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی مداخلت واضح طور پر نظر آتی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اختیارات اپنی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ 15 سے 20 سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، لیکن صوبے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اب بھی کرائے کی عمارتوں میں قائم ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کا وزیر اٹھایا گیا ہے اور وہ اتنی بے بس ہے تو پھر وہ اقتدار سے چمٹی کیوں ہوئی ہے؟
اسلام آباد میں راستوں کی بندش سے متعلق سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ دارالحکومت آنے والے تمام 125 راستے کھلے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کابینہ نے نئے پولیس ایکٹ کی منظوری دی تھی۔ قانون کے تحت اگر صوبائی حکومت آئی جی کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو تو وہ ان کے تبادلے کے لیے وفاق سے مزید نام طلب کرسکتی ہے، جبکہ پولیس افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں کا اختیار بھی صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔






















































































