ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت نے امریکا کو اپنی جنگی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق امریکا نے اپنی افواج کو مختلف مقامات پر منتشر کرنا، فوجی ساز و سامان کو مزید دور دراز علاقوں میں منتقل کرنا اور خفیہ و زیرِ زمین مقامات پر انحصار بڑھانا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی عوام کی مزاحمت و حوصلے اور ایران کی جغرافیائی صورتِ حال کے مؤثر استعمال نے خطے میں امریکا کی روایتی فوجی تعیناتی کو زیادہ غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق سینٹ کام کے اڈوں سے انخلا اور انہیں غیر فعال کرنا، افواج کو اردن منتقل کرنا، جانی نقصان اٹھانا، انٹیلی جنس اور فوجی ساز و سامان کو مزید دور دراز مقامات پر منتقل کرنا اور خفیہ و زیرِ زمین تعیناتی کی جانب بڑھنا امریکا کے لیے نمایاں اخراجات کا باعث بنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایران کے قریب امریکا کی روایتی اور نمایاں فوجی موجودگی برقرار رکھنے میں بڑھتی ہوئی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔






















































































