نیوزی لینڈ: مسجد میں دہشتگردی کا واقعہ، بنگلہ دیشی کھلاڑی محفوظ

پولیس کے مطابق 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے میڈیا کو واقعے سے متعلق بریفنگ کے دوران تصدیق کی کہ مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کیے گئے جس میں 40 افراد جاں بحق ہوئے۔

النور مسجد میں فائرنگ اور اس کی ویڈیو بنانے والے حملہ آور سے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ 28 سالہ آسٹریلوی شہری ہے تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

حملہ آور فائرنگ کے وقت اپنی لائیو فیس بک ویڈیو بھی بناتا رہا جو وائرل ہونے سے قبل ہی نیوزی لینڈ کی پولیس کی جانب سے ڈیلیٹ کرادی گئی ہیں۔

دوسری جانب کرائسٹ چرچ اسپتال کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ اسپتال میں کئی افراد کی لاشوں کو لایا گیا ہے تاہم انہوں نے تعداد بتانے سے گریز کیا جب کہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔

موہن ابن ابراہیم نامی عینی شاہد کے مطابق وہ فائرنگ کے وقت مسجد میں ہی موجود تھے اور تقریباً 200 کے قریب لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے موجود تھے، حملہ آور مسجد کے عقبی دروازے سے داخل ہوا اور کافی دیر تک فائرنگ کرتا رہا۔

عینی شاہد نے کہا کہ اس کا دوست علاقے کی دوسری مسجد میں تھا جس نے اُسے فون کر کے بتایا کہ جس مسجد میں وہ ہے وہاں بھی ایک مسلح شخص نے اندھا دھند فائرنگ کی اور 5 لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں۔

بنگلادیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مسجد میں فائرنگ ہوئی تاہم الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم بہت زیادہ خوش نصیب ہیں، دوبارہ اس طرح نہیں دیکھنا چاہتے، ہمارے لیے دعا کریں۔

بنگلادیشی ٹیم کے کرکٹر تمیم اقبال نے بھی ٹوئٹ کی اور بتایا کہ پوری ٹیم حملے میں محفوظ ہے، دعاؤں میں ہمیں یاد رکھیں۔