آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرض مالی سال 2024-25 کے اختتام پر کم ہو کر 1.614 ٹریلین روپے رہ گیا، جو ایک سال قبل 2.393 ٹریلین روپے تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران بجلی کے شعبے کے گردشی قرض میں مجموعی طور پر 779.58 ارب روپے کی ریکارڈ کمی ہوئی۔
وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن اور نیپرا کے ماتحت 74 اداروں کے 985.8 ارب روپے سے زائد کے سرکاری اخراجات سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گردشی قرض میں یہ نمایاں کمی شعبے کی ساختی اصلاحات یا بہتر کارکردگی کا نتیجہ نہیں تھی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق گردشی قرض میں کمی حکومت کی بجٹ سے ہٹ کر مالی معاونت اور کمرشل قرضوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔
تاہم گردشی قرض میں نمایاں کمی کے باوجود بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کی کارکردگی بدستور کمزور رہی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران ڈسکوز میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے حقیقی نقصانات 17.55 فیصد ریکارڈ کیے گئے۔





















































































