چند برس پہلے تک پاکستان کا نام عالمی ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں زیادہ تر ایف اے ٹی ایف (FATF) کی نگرانی، آئی ایم ایف سے مذاکرات، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے آتا تھا، نہ کہ سفارتی کامیابیوں کے باعث۔ مگر آج امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا اسلام آباد میمورنڈم اس حقیقت کی علامت بن چکا ہے کہ پاکستان غیر متوقع طور پر ایک بار پھر عالمی سفارت کاری میں اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
یہ بحث اپنی جگہ کہ اس معاہدے میں کون جیتا اور کون ہارا، لیکن خود اس معاہدے تک پہنچنا خوش آئند پیش رفت ہے۔ مذاکرات طویل، پیچیدہ، غیر یقینی اور رکاوٹوں سے بھرپور تھے۔ اگرچہ یہ معاہدہ اب بھی نازک ہے اور اس کا مستقبل یقینی نہیں، تاہم اسے اس مرحلے تک پہنچانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں درکار تھیں۔ اس عمل میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے، البتہ اس مبالغے کے بغیر کہ اس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا، پورے خطے کو بچا لیا یا وہ اچانک ایک علاقائی سپر پاور بن گیا۔
افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد متعدد مبصرین نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان بتدریج عالمی سیاست میں اپنی اہمیت کھو دے گا۔ حالیہ پیش رفت نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔ اسلام آباد میمورنڈم ایک ایسے ملک کی سفارتی بحالی کی علامت بن کر سامنے آیا ہے جو ایک طویل عرصے تک نسبتاً عالمی تنہائی کا شکار رہا۔
کئی برسوں تک مغربی پالیسی ساز حلقوں میں پاکستان کو زیادہ تر سکیورٹی کے محدود تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔ عالمی مباحث میں دہشت گردی، شدت پسندی، کمزور طرزِ حکمرانی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات ہی پاکستان کی شناخت بنے رہے، جس سے اس کی سفارتی گنجائش مسلسل محدود ہوتی گئی۔
اس دباؤ کی نمایاں مثال 2018 سے 2022 تک پاکستان کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گرے لسٹ میں شامل رہنا تھا۔ اگرچہ ایف اے ٹی ایف بظاہر ایک تکنیکی ادارہ ہے، لیکن گرے لسٹ میں شمولیت نے پاکستان کے مالیاتی نظام پر بین الاقوامی نگرانی سخت کر دی، عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کو پیچیدہ بنایا اور سرمایہ کاروں و پالیسی سازوں کے ذہن میں پاکستان کے بارے میں منفی تاثر مزید گہرا کیا۔
اسی دوران پاکستان کو اکثر ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا گیا جسے سنبھالنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے شراکت دار کے طور پر جس سے مشورہ کیا جائے۔ مگر سفارت کاری کبھی جامد نہیں رہتی۔ ریاستیں صرف معاشی طاقت سے نہیں بلکہ اپنی جغرافیائی اہمیت، ادارہ جاتی صلاحیت اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث بھی دوبارہ اہمیت حاصل کرتی ہیں۔
پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ غیر جانبدارانہ تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ پاکستان نے ایسے ممالک کے ساتھ بیک وقت روابط برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو ایک دوسرے پر بنیادی طور پر اعتماد نہیں کرتے۔ ایک طرف چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری برقرار ہے، تو دوسری جانب امریکہ سے رابطے بھی قائم ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود ایران کے ساتھ سفارتی دروازے بند نہیں کیے گئے، جبکہ ترکی اور خلیجی ممالک سے تعلقات بھی وسعت اختیار کرتے رہے۔
یہ توازن قائم رکھنا نہ آسان تھا اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ پاکستان نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی اور ریاض کے سکیورٹی خدشات کی حمایت کی، مگر ساتھ ہی ایران کے خلاف قائم ہونے والے فوجی اتحادوں کا حصہ بننے سے گریز کیا اور مسلسل ریاض اور تہران کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا رہا۔ اس طرزِ عمل نے پاکستان کو مکمل طور پر غیر جانب دار تو نہیں بنایا، لیکن اسے ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد رابطہ کار ضرور بنا دیا۔ بین الاقوامی سیاست میں اکثر غیر جانب داری سے زیادہ اہمیت افادیت کی ہوتی ہے۔
آج یہی صلاحیت پاکستان کے اہم ترین سفارتی اثاثوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسلام آباد بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران سے رابطہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور بہت کم ممالک اس نوعیت کی سفارتی رسائی کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی اس سفارتی واپسی کے پس منظر میں دو بنیادی عوامل کارفرما ہیں۔ پہلا اس کا جغرافیہ ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، خلیج فارس، وسطی ایشیا اور مغربی چین کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کی ایران کے ساتھ سرحد ملتی ہے، خلیجی ممالک سے گہرے تعلقات ہیں، چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہے اور امریکہ سے بھی رابطے برقرار ہیں۔ جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی مہم کے دوران خطے میں کشیدگی بڑھی تو یہی جغرافیائی محلِ وقوع ایک مرتبہ پھر پاکستان کے لیے سفارتی اثاثہ ثابت ہوا۔
دوسرا اہم عنصر یہ ہے کہ کامیاب ثالث عموماً تین خصوصیات رکھتے ہیں: دونوں فریقوں تک رسائی، دونوں کے لیے قابلِ قبول ہونا اور کشیدگی روکنے میں براہِ راست مفاد۔ پاکستان ان تینوں معیاروں پر پورا اترتا تھا۔
اس سے بھی بڑھ کر، پاکستان کے اپنے قومی مفادات اس بات سے وابستہ تھے کہ خطے میں جنگ نہ پھیلے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بڑی جنگ کی صورت میں مہاجرین کی نئی لہر، بلوچستان کی سرحد پر عدم استحکام، خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں رکاوٹ اور ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی جیسے سنگین مسائل جنم لے سکتے تھے۔ افغانستان کی طویل جنگ کے اثرات پہلے ہی پاکستان بھگت چکا ہے، اس لیے وہ اپنے ایک اور ہمسایہ ملک میں جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ یوں مذاکرات کی سہولت کاری دراصل پاکستان کے اپنے قومی مفادات کا تقاضا بھی تھی۔
برسوں کے سفارتی دباؤ کے بعد پاکستان آج پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم سفارتی اہمیت محض آغاز ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا پاکستان اس کامیابی کو زیادہ سرمایہ کاری، مضبوط معاشی نمو، بہتر علاقائی روابط اور دیرپا اسٹریٹجک اثرورسوخ میں تبدیل کر پاتا ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خارجہ محاذ پر دکھائی گئی حکمت کا مظاہرہ داخلی سطح پر بھی ہونا چاہیے، کیونکہ کسی بھی ملک کا پائیدار عالمی مقام صرف کامیاب سفارت کاری سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام، مضبوط اداروں اور بہتر طرزِ حکمرانی سے ہی ممکن ہوتا ہے۔





















































































