ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور اس کا دفاع کیا جائے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اچانک وجود میں آنے والا اتحاد نہیں، اس معاہدے کا نفاذ اور اس کے تمام اثرات دفاعی نوعیت کے ہوں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ معاہدے پر کس طرح عمل درآمد ہوگا، کون سا دستہ کہاں جائے گا اور معاہدے کو کس انداز میں استعمال کیا جائے گا، ان امور کا فیصلہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی موجودگی میں مذموم مقاصد رکھنے والے عناصر کسی بھی اقدام سے پہلے کئی بار سوچیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کا مقصد کسی ملک کو دشمن یا دوست قرار دینا نہیں بلکہ سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کا دفاع کیا جائے گا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان تنازع کے خاتمے اور فریقین کے درمیان معاہدے کیلئے کوششیں کررہا ہے اور آئندہ بھی یہ کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ اختلافات کم ہوں، مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل نکالا جائے اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے غیر جانبداری کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کیلئے اہم کردار ادا کیا، پاکستان کا مفاد علاقائی امن اور استحکام میں ہے اور جنگ کو مزید پھیلانے سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔

















































































