اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پورا خطہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہو چکا ہے، جس کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان عرب دنیا کے ساتھ اپنے تاریخی اور گہرے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
عاصم افتخار نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ اور لیگ آف عرب اسٹیٹس کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے، کیونکہ موجودہ عالمی سیاسی غیر یقینی صورتحال میں علاقائی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری انتہائی اہم ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امن و سلامتی کی بنیادی ذمہ داری سلامتی کونسل پر عائد ہوتی ہے، تاہم علاقائی تنظیمیں تنازعات کی روک تھام، ثالثی اور استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان تنازعات کے پُرامن حل اور مکالمے کے فروغ کے لیے عرب لیگ کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام غیر قانونی قبضے، بے دخلی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں، اور اسرائیل کو فلسطین، شام اور لبنان سمیت تمام عرب علاقوں سے اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرنا ہوگا۔
عاصم افتخار نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں محدود جہاز رانی کے باعث نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں، اور اس صورتحال میں فوری ترجیح مکمل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی ہونی چاہیے۔