پاکستان میں آبادی میں تیزی سے اضافہ جاری ہے جبکہ ماہرین کے مطابق آبادی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے اور ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 25 کروڑ 72 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شرح پیدائش کے اعتبار سے پاکستان جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ شرح پیدائش رکھنے والا ملک ہے۔
ماہرین کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں وسائل کی کمی معاشی اور سماجی مسائل کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے پر مؤثر کنٹرول نہ ہونے کے باعث تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے آبادی پر قابو پانے کے اقدامات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے جبکہ صوبائی محکمہ جات بھی مختلف انتظامی مسائل کا شکار ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پنجاب میں محکمہ بہبود آبادی کو انتظامی امور اور ملازمین کے انضمام کے حوالے سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات بھی ناکافی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کی رفتار کم کرنے کے لیے مؤثر پالیسی، عوامی آگاہی اور خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔






















































































