سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ اور سمندری راستوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے آگاہ دو ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب نے اپنے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے متعدد ممالک سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ اتحاد کی حتمی شکل تاحال طے نہیں ہو سکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس اتحاد کی تشکیل کے لیے درجنوں ممالک کے ساتھ مشاورت جاری ہے، جبکہ اس کا مقصد بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اہم بحری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔
دوسری جانب یمن کے وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں سے وابستہ تنظیم انصار اللہ باب المندب کے علاقے میں بحری جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
یمنی وزیر اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ایک خطرناک پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حوثی گروپ اس راستے کو اپنی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کے حصول کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس کے جواب میں سعودی اتحاد کی افواج نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثیوں سے منسلک فوجی ٹھکانوں پر کارروائیاں کیں۔
حوثی تنظیم کی جانب سے ان الزامات اور دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔




















































































