امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات سے متعلق ڈیٹا چوری کرنے اور انتخابی عمل میں مداخلت کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نے 22 کروڑ امریکی ووٹرز کی فائلیں حاصل کیں اور مسلسل امریکی انتخابات کے ڈیٹا کو ہیک کرنے اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا رہا۔
ٹرمپ کے مطابق حاصل کیے گئے ڈیٹا میں ووٹرز کے نام، فون نمبرز، سیاسی وابستگی اور دیگر حساس معلومات شامل تھیں، جنہیں ووٹر رجسٹریشن اور دیگر غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کی گئی نئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے 2020 کے صدارتی انتخابات کو کمزور کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض سرکاری اداروں نے اس معلومات کو جان بوجھ کر دبانے کی کوشش کی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی کے بعض ارکان نے یہ معلومات صدر اور امریکی عوام سے بھی چھپائیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور سی آئی اے کو مبینہ پردہ پوشی میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات اور ممکنہ فوجداری کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ چین نے بعض امریکی صحافیوں کو ان کے خلاف مزید منفی مواد شائع کرنے کے لیے مالی مراعات دینے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ چینی حکام ایسے صحافیوں کی نشاندہی کر رہے تھے جو ان کے بارے میں منفی رپورٹنگ کرتے تھے تاکہ انہیں مزید مضامین لکھنے کے لیے ادائیگی کی جا سکے۔
انتخابی نظام پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا موجودہ انتخابی نظام کمزور ہے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سمیت بیلٹ گنتی کے نظام کو ہیک کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے ایک مبینہ انٹیلی جنس جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے مخالف ممالک، جن میں چین، روس، ایران، شمالی کوریا اور بعض غیر ریاستی گروہ شامل ہیں، امریکی انتخابی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی کہا کہ امریکا وہاں “بڑی کامیابیاں” حاصل کر رہا ہے، جبکہ وینزویلا سے متعلق دعویٰ کیا کہ وہاں بھی امریکا کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔























































































