سندھ کے ضلع خیرپور میں اعلیٰ معیار کے لیتھیم کے ذخائر دریافت ہونے کے بعد پاکستان میں مقامی سطح پر لیتھیم کی صنعت کے قیام کی راہ ہموار ہونے لگی ہے۔
اس سلسلے میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنس ٹیک) کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد خیرپور میں واقع ایک کنویں سے حاصل ہونے والے جیوتھرمل نمکیاتی پانی سے تجارتی پیمانے پر لیتھیم نکالنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے۔
بیان کے مطابق ابتدائی جائزوں میں دریافت ہونے والے لیتھیم کو اعلیٰ معیار کا قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث پاکستان میں بیٹریوں، برقی گاڑیوں اور جدید الیکٹرانک آلات کی تیاری سے متعلق صنعتوں کے فروغ کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق لیتھیم کو جدید ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک اہم دھات کی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ اسے بیٹریوں اور توانائی ذخیرہ کرنے والے نظاموں کی تیاری میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
او جی ڈی سی ایل اور پنس ٹیک کی جانب سے اس منصوبے کی تجارتی افادیت اور پیداواری صلاحیت کا مزید جائزہ لینے کے لیے مختلف تحقیقی مراحل بھی مکمل کیے جائیں گے۔





















































































