ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ممکنہ طور پر اسلام آباد کی جانب آنے کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ترین آلات فراہم کردیے ہیں، جبکہ اس مرتبہ تقریباً 38 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ایک باخبر اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ دو مواقع پر پیش آنے والے تصادم سے سبق حاصل کیا گیا ہے اور ان تجربات سے حکام کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے گزشتہ مارچ کے دوران تعینات اہلکاروں کی تعداد 20 ہزار سے کم تھی، جبکہ اس بار تقریباً 38 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔
عہدیدار نے 26 نومبر 2024 کے واقعے کا حوالہ دیا، جب پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر اپنی ’’فائنل کال‘‘ کے تحت وفاقی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کی تھی۔ انہوں نے 12 اکتوبر 2025 کو مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ہونے والے تصادم کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نومبر 2024 کے مقابلے میں اس مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعداد زیادہ ہے اور انہیں کارروائی کے معاملے میں پہلے سے زیادہ خودمختاری دی گئی ہے۔ انہوں نے جدید ترین آلات کی فراہمی کو بھی اس بار کی تیاریوں کا اہم حصہ قرار دیا۔
ایک عہدیدار نے سکیورٹی انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے بھی تقریباً 38 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کا ذکر کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کے پچھلے مارچ کے موقع پر یہ تعداد 20 ہزار سے بھی کم تھی۔


















































































