وفاقی حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق معطل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی دوبارہ عہدہ سنبھالنے کی امید تقریباً ختم ہو گئی ہے، چاہے صوبے میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج عارضی نوعیت کے ہی کیوں نہ ہوں۔
ذریعے نے نمائندے سے گفتگو میں کہا کہ سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس بیان کے ذریعے انہوں نے ایمرجنسی کے تحت قائم انتظام کے خاتمے کے بعد بھی آفریدی کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے امکان کو رد کر دیا۔
یہ اندازہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت پی ٹی آئی کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت کو معطل کر چکی ہے اور سہیل آفریدی سمیت کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے۔
احتیاطی حراست کے ساتھ زیرِ التوا قانونی کارروائیوں نے ان کے سیاسی مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔ وفاق نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے وفاق کے اس اقدام کو مسترد کیا اور اسے سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ وفاقی ذریعے کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے محاذ آرائی پر مبنی سیاسی مؤقف، خصوصاً دہشت گردی اور ریاستی اداروں کے بارے میں ان کے بیانات، نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات کو مزید متاثر کیا۔
ذریعے نے اشارہ دیا کہ وفاقی سطح پر سہیل آفریدی کی وزیراعلیٰ کے عہدے پر واپسی کو اب قابلِ عمل امکان نہیں سمجھا جا رہا۔ ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بے یقینی متعدد قانونی چیلنجز کے باعث بھی بڑھی ہے، جن میں 9 مئی 2023 کے تشدد، احتجاجی مظاہروں اور بطور وزیراعلیٰ ان کی تقرری سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف درخواست کی سماعت کے لیے 15 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
پی ٹی آئی کے منحرف رہنما شیر افضل مروت کی دائر کردہ درخواست میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے اور اس کے بعد سہیل آفریدی کے انتخاب کے حالات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
درخواست میں اس طریقۂ کار کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت سہیل آفریدی نے عہدہ سنبھالا۔ دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی ان درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے جن میں اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت مانگی گئی ہے۔
10 اکتوبر کو عدالت نے ان کے وکلا کو درخواستوں پر دلائل پیش کرنے کا آخری موقع دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت 20 اکتوبر کو مقرر کرتے ہوئے واضح کیا کہ مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ سہیل آفریدی مئی 2023 کی بدامنی کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت میں توڑ پھوڑ اور اسے نذرِ آتش کرنے سے متعلق مقدمے میں بھی نامزد ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تفتیشی رپورٹ دیکھنے کے بعد تفتیشی افسر کو ضمنی چالان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک علیحدہ معاملے میں پشاور ہائیکورٹ نے ہری پور کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف سہیل آفریدی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
اس کارروائی کے مزید سیاسی اثرات سامنے آ سکتے ہیں، لیکن درخواست کا مسترد ہونا بنیادی الزامات پر حتمی فیصلے کے مترادف نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے صوبائی اقتدار سنبھالنے، سہیل آفریدی کی احتیاطی حراست اور زیرِ التوا قانونی کارروائیوں نے مل کر ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں خاصی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
اگرچہ ایمرجنسی نافذ کرنے اور صوبائی اختیارات گورنر کے حوالے کرنے کا طریقۂ کار آئینی دفعات کے تحت طے کیا جاتا ہے، تاہم وفاقی ذریعے کے اندازے کے مطابق موجودہ انتظام مستقل نہ بھی ہو تو سہیل آفریدی کی واپسی کا امکان کم ہی رہے گا۔




















































































