ترکیے نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی باضابطہ خواہش ظاہر کر دی ہے، جسے خطے کی سکیورٹی صورتحال کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب پر مشتمل ممکنہ دفاعی اتحاد مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر خطوں میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ برس ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو اتحاد کے آرٹیکل پانچ سے مماثلت رکھتی ہے، جبکہ ترکیے پہلے ہی نیٹو اتحاد کا رکن ہے۔
بلوم برگ کے مطابق ترکیے کو پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شامل کرنے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان جلد ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، جس سے دفاعی تعاون کو مزید وسعت مل سکتی ہے۔