ایران کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو ایران امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات روک سکتا ہے۔
ایرانی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے سخت بیانات میں کہا گیا ہے کہ لبنان اور غزہ کی صورتحال خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے کہا کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مزاحمتی محور کو ردعمل دینے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مزاحمتی گروپ باب المندب کی بحری گزرگاہ میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کر سکتے ہیں جیسی صورتحال آبنائے ہرمز میں دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی اسرائیل اور امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے دی جانے والی تنبیہ محض بیان بازی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مؤقف ہے، جبکہ ایران ہر ممکن ردعمل کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں موجود امریکی افواج بھی کسی ممکنہ کشیدگی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے اور مذاکراتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ لبنان اور غزہ کی صورتحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔























































































