کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوان میر رضا علی کی گلستانِ جوہر سے لاش ملنے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ تفتیشی ذرائع کی جانب سے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں میر رضا علی کو 28 جولائی کی رات بہادر آباد چورنگی میں واقع اپنی دکان سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بعد میں اپنے گھر پہنچے، جہاں انہوں نے اپنی گاڑی، اسمارٹ واچ، گھر کی چابیاں اور نقد رقم چھوڑ دی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا علی نے بعد ازاں ایک آن لائن ٹیکسی بک کی اور گلستانِ جوہر روانہ ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ وہاں اکیلے پہنچے اور بعد میں ان کا موبائل فون بھی بند ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ واقعہ قتل کا نتیجہ تھا یا خودکشی کا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا علی وافلکس کے علاوہ ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار سے بھی وابستہ تھے اور متعدد افراد نے ان کے ذریعے سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ ذرائع کے مطابق دسمبر 2025ء کے بعد انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اپریل میں کاروباری نقصانات میں مزید اضافہ ہوا۔
تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مالی خسارے کے باعث میر رضا علی نے مختلف افراد سے قرض لیا اور ان پر تقریباً پانچ سے آٹھ کروڑ روپے تک کی واجبات عائد ہو گئیں۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق بیرونِ ملک مقیم ایک شخص نے بھی ان کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی تھی، تاہم اسے منافع کی ادائیگی نہیں کی جا سکی۔
پولیس نے میر رضا علی کی منگیتر کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق 28 جولائی کی رات ان دونوں کے درمیان رابطہ ہوا تھا، تاہم بعد میں کی جانے والی متعدد کالز اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا علی نے گھر سے روانہ ہونے سے پہلے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کر دیے تھے اور اپنے والد کے اکاؤنٹ میں رقم بھی منتقل کی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔





















































































