وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران نجی شعبے کو 11.38 کھرب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، جو گزشتہ چار برسوں کے دوران بلند ترین سطح ہے۔
خرم شہزاد نے اپنے بیان میں کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں کے حجم میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ان کے مطابق نجی شعبے کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت کا مقصد کاروباری اور پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 89 فیصد نئے قرضے مینوفیکچرنگ، تھوک و پرچون تجارت اور زرعی شعبے کو دیے گئے۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے کو 657 ارب روپے کے نئے قرضے فراہم کیے گئے، جو صنعتی سرگرمیوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تجارت اور زراعت کے شعبوں میں مالی معاونت کے نتیجے میں پیداوار، کاروباری سرگرمیوں اور نجی سرمایہ کاری میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں اضافہ کاروباری اعتماد اور معاشی استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔





















































































