آزاد جموں و کشمیر حکومت کے سیکرٹری اطلاعات راشد حنیف نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی میں شرپسند عناصر، دہشت گردوں اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شامل ہے۔
ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے راشد حنیف نے کہا کہ بعض عناصر نے آزاد کشمیر کے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کی، تاہم ریاست کی بنیادی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے اور حکومت اس ذمہ داری کو ہر صورت پورا کرے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی میں عوام کی تعداد کم جبکہ مسلح عناصر، دہشت گرد اور فتنہ الخوارج سے وابستہ افراد زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کے پاس اس تحریک میں دہشت گرد عناصر کی شمولیت کے شواہد موجود ہیں۔
راشد حنیف نے مزید الزام عائد کیا کہ احتجاج میں شامل شرپسند عناصر انسانی آبادی کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گمراہ کن معلومات سے بچنے کے لیے انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
اس موقع پر آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ احتجاج میں شامل بعض عناصر کے پاس جدید اور خودکار اسلحہ موجود ہے، جبکہ ان کی فائرنگ سے 5 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔



















































































