پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کے مفاد میں جو بھی بہتر ہوگا، صوبائی حکومت اس کی مکمل حمایت کرے گی، تاہم وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پالیسی سازی کا اختیار وفاق کے پاس موجود ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اچھی گورننس کی وجہ سے عوام نے مسلسل تیسری بار تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے، جبکہ وہ صوبے کے لیے 100 ارب روپے کے بڑے پیکج کا اعلان کرنے جا رہے ہیں، جس میں پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل میڈیکل کمپلیکس کے ساتھ رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ پر انڈرپاسز اور فلائی اوورز کی تعمیر بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 ہزار 300 ارب روپے عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے اور یہ رقوم کسی ذاتی خزانے سے نہیں آتیں، ایلیٹ مافیا نے برسوں تک قومی وسائل کو نقصان پہنچایا ہے جسے اب مزید جاری نہیں رہنے دیا جائے گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کوئی تجربہ گاہ نہیں، اس صوبے میں وہی پالیسیاں نافذ ہوں گی جو عوام کی خواہشات اور ضرورت کے مطابق ہوں، قبائلی عوام نے ملک اور صوبے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
اس موقع پر اسد قیصر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو متاثر کیا گیا ہے، جس کے خلاف پوری قوم کھڑی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ حالیہ صورتحال ہماری بارڈر پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ ہے، اس لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ معاملات میں نرمی لاکر امن کے لیے راستہ نکالے۔