پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حمایت کے باوجود مجوزہ “عمران خان ریلیز فورس” کو کبھی باضابطہ منظوری نہیں مل سکی، کیونکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس کی منظوری اور نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ان رہنماؤں میں شامل تھے جو بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم کے لیے رضاکاروں پر مشتمل ایک منظم فورس کے قیام کے حامی تھے۔ منصوبے کے تحت رضاکاروں کی رجسٹریشن اور حلف برداری کی تجویز بھی زیر غور تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر علی خان نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کی کسی فورس کا قیام آئینی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسی تنظیم باضابطہ طور پر قائم کی جاتی تو پارٹی کو سنگین قانونی نتائج اور عسکریت پسندی جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق انہی اعتراضات کے باعث مجوزہ “عمران خان ریلیز فورس” کو عملی شکل نہیں دی جا سکی اور منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہی ترک کر دیا گیا۔
یہ معاملہ اس وقت دوبارہ زیر بحث آیا جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی آئینی عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ “عمران خان ریلیز فورس” کبھی قائم ہی نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ یہ بیان تکنیکی طور پر درست ہے، تاہم فورس کے قیام کی تجویز پارٹی کے اندر زیر غور رہی تھی لیکن اسے حتمی منظوری نہیں ملی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں پی ٹی آئی نے مجوزہ فورس کے بجائے ایک وسیع تر سیاسی اور پُرامن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں باضابطہ رکنیت، حلف برداری یا فورس جیسی تنظیمی ساخت شامل نہیں رکھی گئی تاکہ تحریک آئینی اور جمہوری دائرے میں رہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ بھی طے کیا گیا کہ آئندہ احتجاجی یا عوامی تحریکوں کے آغاز اور ان کی حکمت عملی سے متعلق فیصلے اپوزیشن اتحاد سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے، جس کی قیادت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے ان اندرونی دعوؤں پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ خبر میں بیان کیے گئے نکات پارٹی ذرائع سے منسوب ہیں۔



















































































