ایف بی آر نے پرانے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں تبدیلیوں کے ذریعے 9 ارب 41 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کا سراغ لگانے اور ملک بھر میں 48 فوجداری تحقیقات شروع کرنے کی اطلاع دی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق ٹیکس دہندگان نے اپنے سابقہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں غیرقانونی طور پر اثاثے ظاہر کیے۔ لاہور کے ایک کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت فوجداری مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔
ایف بی آر نے بتایا کہ ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے میں 85 ٹیکس دہندگان کے ٹیکس سال 2014 سے 2019 کے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں بعد ازاں کی گئی تبدیلیاں سامنے آئیں۔
ادارے کے مطابق ان افراد نے مارچ 2025 سے جون 2026 کے درمیان پرانے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں نقدی، سونا، پرائز بانڈز، جائیداد اور کاروباری سرمایہ ظاہر کیا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت اصل ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ تاریخ سے پانچ سال گزرنے کے بعد ویلتھ اسٹیٹمنٹ پر نظرثانی نہیں کی جاسکتی، لیکن سامنے آنے والے تمام کیسز میں اس مدت کے اختتام کے بعد تبدیلیاں کی گئیں۔
ایف بی آر کے مطابق لاہور کے ایک کیس میں ایک ٹیکس دہندہ نے مئی 2026 میں ٹیکس سال 2015 کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی فنڈز ظاہر کیے۔ اس رقم کو بعد کے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں 2025 تک منتقل کیا گیا اور اسے استعمال کرتے ہوئے مئی اور جون 2026 میں سات جائیدادیں خریدی گئیں۔
ادارے نے بتایا کہ ان سات جائیدادوں کی مالیت 6 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران متعلقہ ٹیکس دہندہ ان مبینہ فرضی فنڈز کا ذریعہ بتانے میں ناکام رہا۔
ایف بی آر کے مطابق صرف اس کیس میں مبینہ طور پر 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس چوری کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایف بی آر نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں 48 فوجداری تحقیقات شروع کی جاچکی ہیں، جبکہ دیگر کیسز میں کارروائی جاری ہے۔ لاہور کے کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مقدمہ درج کرنے کے علاوہ مبینہ فراڈ میں معاونت کرنے والے دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔




















































































