پشاور: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پشاور میں شمشتو کیمپ کے قریب ارمڑ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کالعدم تنظیم داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کا اہم کمانڈر عمران عرف ابو بکر بھی شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشت گرد حساس اداروں، امام بارگاہوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے بعد ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے ایک ایس ایم جی، 4 پستول، 2 دستی بم، ایک خود ساختہ آئی ای ڈی، 5 میگزین اور متعدد کارتوس برآمد کیے گئے۔
سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ عمران عرف ابو بکر دہشت گردی، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے 20 مقدمات میں مطلوب اشتہاری تھا۔
حکام کے مطابق عمران، مولانا خانزیب، سینیٹر ہدایت اللہ اور ریحانزیب کے قتل کے مقدمات کے علاوہ 6 فروری 2026 کو ترلئی امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی مطلوب تھا۔
سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ عمران عرف ابو بکر نے ترلئی حملے کے لیے خودکش جیکٹ باجوڑ سے منگوائی تھی اور خودکش حملہ آور کو نوشہرہ سے ترلئی پہنچایا تھا۔
حکام کے مطابق عمران کی گرفتاری یا اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔




















































































