ایران نے پاکستان سمیت دیگر ثالث ممالک کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم پاکستان سمیت مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق سینئر ایرانی حکام نے بتایا کہ ثالثوں نے منگل کو ایران سے رابطہ کر کے سفارتکاری جاری رکھنے پر بات چیت کی، تاہم عارضی جنگ بندی کے حوالے سے کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی۔
اس سے قبل رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران تنازع پر پاکستانی ثالث کاروں سے بات چیت کی، جبکہ ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو سخت پیغام بھی بھیجا گیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے پیغام میں کہا کہ بعض مطالبات کی تکمیل کی صورت میں جنگ بندی پر بات چیت ممکن ہو سکتی ہے، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔