کئی دہائیوں سے ہمارے ہاں تعلیم پر ہونے والی بحث میں داخلوں، اسکولوں کی عمارتوں، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔ یہ سب یقیناً اہم ہیں، لیکن ان کا تعلق تعلیم کے نظام سے ہے، تعلیم کے مقصد سے نہیں۔ اس لیے یہ طے کرنے سے پہلے کہ تعلیم کو بہتر کیسے بنایا جائے، ہمیں پہلے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ آخر تعلیم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جدید تعلیم نے انسان کو غیر معمولی سائنسی علم، نئی ٹیکنالوجی اور زیادہ صحت مند اور طویل زندگی دی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک عجیب تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ ایک طرف انسان نے ترقی کی بے مثال منازل طے کی ہیں، دوسری طرف زمین صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ بے شمار دوسری مخلوقات کے لیے بھی پہلے سے کم قابلِ رہائش بنتی جا رہی ہے۔
کینیڈا کے ماہرِ تعلیم ایڈمنڈ او سلیوان کے مطابق آج کی تعلیم ایک ایسے بحران کا شکار ہے جسے وہ “کائناتی شعور کا زوال” کہتے ہیں، یعنی انسان اپنے آپ کو زندگی کے وسیع تر نظام کا حصہ سمجھنے کے بجائے اس سے الگ تصور کرنے لگا ہے۔ ان کے نزدیک ماحولیاتی بحران دراصل تعلیمی بحران بھی ہے، کیونکہ اسکول صرف یہ نہیں سکھاتے کہ ہمیں کیا معلوم ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہمارا زمین اور فطرت سے تعلق کیسا ہونا چاہیے۔
اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ زمین اب ایک جیتی جاگتی دنیا نہیں بلکہ خرید و فروخت کی چیز بن گئی ہے۔ دریا “آبی وسائل”، جنگلات “لکڑی”، پہاڑ “معدنی ذخائر”، ساحلی علاقے “قیمتی جائیداد”، دلدلی زمینیں “قابلِ استعمال رقبہ”، گلیشیئر “پانی کے ذخائر”، سمندر “ماہی گیری کے وسائل” اور جنگلی حیات “معاشی اثاثے” بن چکے ہیں۔
مورخ ہنری فرینکفرٹ نے اس تبدیلی کو یوں بیان کیا کہ قدیم انسان فطرت کو ایک “تم” سمجھتا تھا، یعنی ایک تعلق، جبکہ جدید انسان اسے صرف ایک “وہ” یا شے سمجھتا ہے، جس کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جب فطرت محض ایک چیز بن جائے تو ترقی کے نام پر اس کی تباہی کو جائز قرار دینا آسان ہو جاتا ہے۔
ہمارے اسکول بچوں کو روزگار کمانا تو سکھاتے ہیں، لیکن اس دنیا کو زندہ رکھنا بہت کم سکھاتے ہیں۔
سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا میں حیاتیاتی تنوع اس رفتار سے ختم ہو رہا ہے جو زمین کی تاریخ میں ہونے والی بڑی اجتماعی معدومیوں سے ملتی جلتی ہے۔ آخری بڑی معدومی تقریباً چھ کروڑ پینسٹھ لاکھ سال پہلے ہوئی تھی۔ چاہے یہ موازنہ مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، ایک بات واضح ہے کہ انسان زمین کے قدرتی نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہا ہے۔
یہ خطرات اب مستقبل کی بات نہیں رہے بلکہ ہمارے سامنے موجود ہیں۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب سے پاکستان میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہوئے۔ لاہور کی فضائی آلودگی دنیا کی بدترین آلودگیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سکڑتے ہوئے گلیشیئر، انڈس ڈیلٹا میں سمندری پانی کی دراندازی، زیرِ زمین پانی کی کمی، شدید گرمی کی لہریں، مینگرووز کے جنگلات کا خاتمہ اور زمین کی بگڑتی ہوئی حالت لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو بدل رہی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں ان مسائل کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
یہ بات ہرگز نہیں کہ سائنس، ٹیکنالوجی یا جدیدیت کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ انسانی ترقی میں ان کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اسکول آج بھی نمبروں، گریڈز، درجہ بندی اور معاشی کامیابی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جبکہ ماحولیاتی ذمہ داری، باہمی تعاون اور اس شعور پر کم توجہ دیتے ہیں کہ انسان کی بقا فطرت کی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔
مصنفہ لیسلی ہیزلٹن لکھتی ہیں کہ قرآن مجید میں جنت کا 36 مرتبہ “ایسے باغات” کے طور پر ذکر آیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ دراصل فطرت کے ساتھ ہم آہنگی، خوشحالی اور زندگی کی علامت ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ایک کانفرنس کے دوران سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے بتایا کہ بچپن میں تھر میں وہ سانپوں کو ان کے قدرتی ماحول میں دیکھا کرتے تھے۔ آج کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بہت سے بچے آسمان پر ستاروں کے مقابلے میں موبائل فون کی اسکرین کو زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ بہت کم بچے اپنے علاقے کے پرندوں، درختوں یا موسموں کی قدرتی تبدیلیوں سے واقف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو ہم قریب سے جانتے ہی نہیں، اس کی حفاظت بھی نہیں کرتے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم زمین پر غلبہ حاصل کرنے کے تصور سے آگے بڑھ کر اس کے ساتھ ایک مشترکہ زندگی کا رشتہ قائم کریں۔ اصل چیلنج صرف بہتر اسکول بنانا نہیں بلکہ تعلیم کا ایسا تصور پیدا کرنا ہے جو سائنسی ترقی اور معاشی خوشحالی کو اہمیت دینے کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرے کہ انسان کی خوشحالی کا انحصار ایک زندہ اور صحت مند زمین پر ہے۔
تعلیم کا مقصد صرف بچوں کو روزگار کمانے کے قابل بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں اس قابل بھی بنانا چاہیے کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے اس دنیا کو رہنے کے قابل رکھ سکیں۔



















































































