پنجاب نے جلال پور کینال میں پانی چھوڑ دیا ہے، جسے حکام کی جانب سے آزمائشی بہاؤ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس اقدام نے ایک بار پھر ایسے مباحث کو جنم دیا ہے، جنہوں نے نہ صرف سندھ میں پانی سے متعلق پرانے خدشات کو تازہ کر دیا ہے بلکہ وفاقی اداروں کے کردار پر بھی کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ ماہ کے آخری دنوں میں اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے منعقد ہونے والے قومی سیمینار میں بھی پانی کے مسئلے کو عالمی تناظر میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیمینار میں پاکستان کا سرکاری مؤقف پیش کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے یا پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین، عالمی روایات اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہوگا۔ بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی دریا کے زیریں بہاؤ (Lower Riparian) میں واقع فریق کا پانی پر پہلا حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصول ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مؤقف یقیناً بین الاقوامی قانون کی روح سے ہم آہنگ ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک فطری سوال بھی جنم لیتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر زیریں بہاؤ والے علاقے کے پانی کے حق کا اتنے مضبوط انداز میں دفاع کیا جاتا ہے تو پھر پاکستان کے اندر، جہاں سندھ دریائے سندھ کا آخری اور زیریں بہاؤ والا صوبہ ہے، یہی اصول اسی دیانت داری کے ساتھ نافذ ہونا چاہیے۔ وفاق کی اخلاقی حیثیت اسی وقت مضبوط ہوگی جب وہ عالمی سطح پر اختیار کیے گئے اصولوں پر ملک کے اندر بھی یکساں عمل کرے۔ اسلام آباد میں ہونے والے سیمینار کے حوالے سے سندھ میں یہ احساس بھی پایا گیا کہ پانی کے مسئلے پر ہونے والی بحث میں سندھ کے ماہرین، زرعی سائنس دانوں، ماحولیاتی ماہرین اور کاشتکاروں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ پانی جیسے حساس معاملے میں اگر کسی فریق کو یہ احساس ہو کہ اس کے خدشات کو پوری طرح سنا نہیں جا رہا تو اعتماد کی کمی پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ وفاق کی اصل طاقت صرف آئینی اختیارات میں نہیں بلکہ تمام وفاقی اکائیوں کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
جلال پور کینال کے حوالے سے سندھ کے خدشات اچانک پیدا نہیں ہوئے۔ پنجاب اس منصوبے کو اپنی زرعی ترقی کا ایک اہم سنگ میل قرار دیتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ کینال ضلع جہلم اور خوشاب میں ہزاروں ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت فراہم کرے گی، جدید زرعی نظام کو فروغ دے گی اور زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گی۔ ہر صوبے کو اپنی ترقی کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، لیکن یہ حق اس شرط سے مشروط ہے کہ اس سے کسی دوسرے صوبے کے قانونی حصے یا وسائل پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ سندھ کے ماہرینِ آب کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ جلال پور کینال کو پانی فراہم کرنے کے لیے دریائے جہلم کے بہاؤ میں تبدیلیاں کرنا پڑیں گی، اور جب جہلم کے زیریں حصے میں پانی کی ضرورت بڑھے گی تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دریائے سندھ سے مزید پانی منتقل کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سندھ کے حصے پر پڑے گا، جو پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ سندھ کا مؤقف صرف فنی یا سیاسی نہیں بلکہ آئینی بھی ہے۔ 1991ء کا پانی معاہدہ تمام صوبوں کی باہمی رضامندی سے طے پایا تھا، جس کا مقصد ہر صوبے کو اس کے حصے کا پانی یقینی بنانا اور نئے منصوبوں سے قبل تمام فریقوں کو اعتماد میں لینا تھا۔ اگر کسی صوبے کو یہ خدشہ ہو کہ اس کے حصے کا پانی متاثر ہو سکتا ہے تو وفاقی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خدشات کو نظرانداز کرنے کے بجائے دلائل، اعداد و شمار اور قانون کی بنیاد پر اس کا ازالہ کریں۔ بدقسمتی سے جلال پور کینال کے معاملے میں سندھ کے آئینی اعتراضات بھی بروقت نہیں سنے گئے۔ سندھ حکومت نے 2024ء میں مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کے سامنے اس منصوبے کے خلاف اپنے تفصیلی اعتراضات جمع کرا دیے تھے۔ آئین کے مطابق سی سی آئی صوبوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے حل کا سب سے اہم فورم ہے، جہاں پانی جیسے حساس معاملات پر فیصلے ہونے چاہییں۔ افسوس کہ دو برس تک سندھ کی یہ سمری ایجنڈے پر ہی نہ آ سکی، جبکہ اس دوران جلال پور کینال کی تعمیر مکمل ہو گئی اور اسے آزمائشی بنیادوں پر چلانا بھی شروع کر دیا گیا۔
آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ایک صوبے کے آئینی اعتراضات موجود تھے تو ان پر بروقت غور کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر جلال پور کینال کو فعال کرنے سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل کم از کم سندھ کے اعتراضات پر بحث کر لیتی تو شاید آج پیدا ہونے والے بہت سے خدشات جنم ہی نہ لیتے۔ آئین یہ بھی کہتا ہے کہ سی سی آئی کا اجلاس ہر تین ماہ بعد ہونا چاہیے، لیکن عملی طور پر یہ ادارہ برسوں تک غیر فعال رہتا ہے۔ جب اہم آئینی ادارے اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا نہ کریں تو عوام کے دلوں میں آئین اور وفاقی نظام پر اعتماد کمزور ہونا لازمی ہے۔ جلال پور کینال کے حوالے سے جاری بحث کو محض ایک نئے آبپاشی منصوبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ سندھ کے نزدیک یہ منصوبہ پانی کی تقسیم سے متعلق ایک وسیع تر سلسلے کی کڑی ہے۔ سندھ کے سیاسی اور فنی حلقوں کا مؤقف ہے کہ جب بھی بالائی علاقوں میں نئے کینال یا پانی کی منتقلی کے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں تو ان کے اثرات بالآخر زیریں بہاؤ پر ضرور پڑتے ہیں۔ اسی لیے سندھ مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ہر نئے منصوبے سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل، ارسا اور تمام صوبوں کی رضامندی حاصل کی جائے۔ جلال پور کینال کے خلاف سندھ کے اعتراضات صرف خدشات پر مبنی نہیں بلکہ زمینی حقائق پر بھی استوار ہیں۔ سندھ کئی برسوں سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ آبپاشی نظام کے آخری سروں تک پانی نہ پہنچنے کے باعث ہر سال ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوتی ہے۔ عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، بدین اور دیگر اضلاع کے کاشتکار پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف بارہا احتجاج کر چکے ہیں۔ کنری سب ڈویژن کے آبادگاروں کا احتجاج بھی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کئی شاخوں اور مائنرز کے آخری سروں تک پانی پہنچ ہی نہیں پاتا۔ نتیجتاً فصلیں سوکھ جاتی ہیں، زمینیں بنجر ہو جاتی ہیں اور چھوٹے کاشتکار قرضوں اور معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سندھ کے پانی کے بحران کا سب سے المناک پہلو کوٹری بیراج کے نیچے ڈاؤن اسٹریم میں نظر آتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق کسی بھی دریا کے ڈیلٹا کو زندہ رکھنے کے لیے ایک مخصوص مقدار میں میٹھے پانی کا سمندر تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے۔ جب یہ بہاؤ کم ہو جاتا ہے تو سمندر آہستہ آہستہ خشکی پر قبضہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ سندھ کی ساحلی پٹی میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس کے واضح اثرات سامنے آئے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ زمین سیم و تھور اور کھارے پن کا شکار ہو چکی ہے، کئی دیہات نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، ماہی گیر برادری کے وسائل محدود ہو گئے ہیں اور ساحلی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب کوٹری سے نیچے ماحولیاتی ضرورت کے مطابق پانی نہیں پہنچ رہا، بالائی علاقوں میں نئے کینالوں کا فعال ہونا سندھ میں بے چینی پیدا کرنا ایک فطری امر ہے۔ پانی کی تقسیم پر اعتماد اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب زیریں بہاؤ کی ماحولیاتی ضروریات کو بھی اسی سنجیدگی سے پورا کیا جائے جس سنجیدگی سے نئے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ سندھ کے خدشات کی ایک اور اہم وجہ لنک کینالوں سے متعلق پرانا تنازع بھی ہے۔ چشمہ جہلم لنک کینال اور تونسہ پنجند لنک کینال کے بارے میں سندھ کا مؤقف طویل عرصے سے یہ رہا ہے کہ ان کے ذریعے پانی کی منتقلی صرف غیر معمولی حالات تک محدود رہنی چاہیے، لیکن عملی طور پر ان کے آپریشن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں جب جلال پور کینال بھی شروع ہوتی ہے تو سندھ کے ماہرین کو خدشہ ہوتا ہے کہ مختلف منصوبوں کا مجموعی اثر دریائے سندھ کے زیریں بہاؤ پر پڑ سکتا ہے۔ پانی کے مسئلے کو کسی ایک صوبے کے مفاد تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ پنجاب کی زرعی ترقی بھی پاکستان کی معیشت کے لیے اہم ہے اور سندھ کی زرعی خوشحالی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ وفاق کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ ترقیاتی منصوبے اس انداز سے بنائے جائیں کہ کسی بھی صوبے میں احساسِ محرومی پیدا نہ ہو۔ اگر کسی صوبے کو یہ محسوس ہو کہ اس کے وسائل کے بارے میں فیصلے اس کی رضامندی کے بغیر کیے جا رہے ہیں تو یہ وفاقی اعتماد کے لیے نیک شگون نہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ پانی کے انتظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے۔ تمام بیراجوں، ہیڈ ورکس اور کینالوں کے پانی کے اعداد و شمار روزانہ کی بنیاد پر عوام کے سامنے پیش کیے جائیں، ارسا کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور مشترکہ مفادات کونسل کو آئین کے مطابق باقاعدگی سے فعال رکھا جائے۔ پانی کی تقسیم میں شفافیت ہی وہ راستہ ہے جو خدشات اور بداعتمادی کو ختم کر سکتا ہے اور وفاقی اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ پانی کا مسئلہ صرف ایک صوبے کے اعتراض یا دوسرے صوبے کی ترقی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کی ساکھ، آئین کی بالادستی اور قومی اتحاد کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر پانی جیسے حساس وسیلے سے متعلق فیصلے تمام وفاقی اکائیوں کے اعتماد کے ساتھ نہیں کیے جائیں گے تو اختلافات بڑھیں گے، جبکہ باہمی مشاورت، شفافیت اور قانون کی پاسداری ہی ان اختلافات کو ختم کر سکتی ہے۔ اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ سیمینار نے ایک لحاظ سے پاکستان کے عالمی مؤقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ وہاں بار بار یہ مؤقف دہرایا گیا کہ زیریں بہاؤ والے فریق کا پانی روکنا بین الاقوامی قانون، انصاف اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ مؤقف یقیناً عالمی قانون کی روح کے مطابق ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ملک کے اندر بھی یہی معیار اختیار کیا جائے۔ اگر پاکستان عالمی برادری سے انصاف کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اپنے وفاق کے اندر بھی ہر صوبے کے خدشات کو یکساں اہمیت دینی چاہیے۔ بدقسمتی سے پانی کے معاملے میں ادارہ جاتی سنجیدگی کم دکھائی دیتی ہے۔ پانی کی تقسیم سے متعلق اختلافات کا حل آئین کے دائرے میں موجود اداروں کے ذریعے نکلنا چاہیے۔ مشترکہ مفادات کونسل، ارسا اور دیگر متعلقہ ادارے اسی وقت اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں جب وہ بروقت فیصلے کریں، تمام صوبوں کو سنیں اور اپنے فیصلوں کے فنی و قانونی جواز عوام کے سامنے پیش کریں۔ پانی کے تنازعے کا ایک اور اہم پہلو موسمیاتی تبدیلی بھی ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، بارشوں کے غیر یقینی رجحان، آبادی میں اضافے اور زرعی ضروریات کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث مستقبل میں پانی کی طلب مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایسے وقت میں پانی کے ہر قطرے کو قومی امانت سمجھتے ہوئے جدید آبپاشی نظام، پانی بچانے والی ٹیکنالوجی، ڈرپ اور اسپرنکلر اریگیشن، نہروں کی بہتر دیکھ بھال اور فصلوں کی سائنسی منصوبہ بندی پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ اگر پانی کا انتظام جدید اصولوں کے مطابق نہ کیا گیا تو مستقبل میں بین الصوبائی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ جلال پور کینال کے حوالے سے جاری بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبے صرف انجینئرنگ کی بنیاد پر نہیں بلکہ وفاقی اعتماد، ماحولیاتی توازن اور قانونی اصولوں کو سامنے رکھ کر تیار کیے جائیں۔ کسی بھی صوبے کی ترقی اسی وقت پائیدار ہو سکتی ہے جب وہ دوسرے صوبوں کے حقوق سے متصادم نہ ہو۔ پانی کی منصفانہ تقسیم وفاقی استحکام کی بنیادی شرط ہے کیونکہ احساسِ محرومی ہمیشہ سیاسی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ سندھ کے خدشات کو محض سیاسی نعرہ بازی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ جب ٹیل کے کاشتکار پانی کے لیے سڑکوں پر نکلیں، جب کوٹری سے نیچے ماحولیاتی بہاؤ کم ہو جائے، جب ساحلی پٹی کی زمین کھارے پن کا شکار ہو اور جب ایک صوبے کے آئینی اعتراضات برسوں تک مشترکہ مفادات کونسل کی میز پر پڑے رہیں، تو ان معاملات کو سنجیدگی سے سننا وفاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اختلافات کو دبانے کے بجائے دلائل، اعداد و شمار اور شفاف فیصلے ہی ان کا مستقل حل ہیں۔
یہ انتہائی ضروری ہے کہ 1991ء کے پانی معاہدے کی روح پر مکمل دیانت داری سے عمل کیا جائے، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس آئین کے مطابق باقاعدگی سے منعقد ہوں، پانی سے متعلق تمام اعداد و شمار عوام کی دسترس میں لائے جائیں، ارسا کو مکمل خودمختاری دی جائے اور ہر نئے آبپاشی منصوبے سے پہلے تمام صوبوں کی رضامندی حاصل کی جائے۔ اس طرح نہ صرف شکوک و شبہات ختم ہوں گے بلکہ وفاقی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
جلال پور کینال آج صرف پنجاب کا ایک آبپاشی منصوبہ نہیں رہا بلکہ یہ پاکستان میں پانی کی منصفانہ تقسیم، وفاقی انصاف، آئینی اداروں کی کارکردگی اور قومی یکجہتی کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر اس معاملے کو قانون، انصاف اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر حل کیا گیا تو یہ وفاق کو مزید مضبوط کرے گا، لیکن اگر اختلافات کو نظرانداز کیا گیا تو پانی کا یہ تنازع مستقبل میں مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتا ہے۔
پانی زندگی کی علامت ہے، اور زندگی اسی وقت خوشحال ہوتی ہے جب اس کی تقسیم میں انصاف، شفافیت اور مساوات کے اصول غالب ہوں۔ وفاق کی اصل طاقت بھی دریاؤں کے بہاؤ کی مانند اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس میں شامل ہر وفاقی اکائی کو یقین ہو کہ اس کے حقوق محفوظ ہیں، اس کی آواز سنی جاتی ہے اور اس کے وسائل سے متعلق فیصلے آئین اور انصاف کے دائرے میں کیے جاتے ہیں۔



















































































