امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں، تجارتی سرگرمیوں اور مالیاتی منڈیوں پر منفی اثرات کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ معاشی جائزہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی مالی سال 2027 کے دوران پاکستان کی معیشت، بالخصوص مہنگائی کی شرح اور بیرونی شعبے کی کارکردگی، کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کے باعث ملک میں توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ جولائی 2026 کے دوران صارف قیمت اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور مالیاتی شعبے میں غیر یقینی صورت حال کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
تاہم وزارتِ خزانہ کے مطابق بہتر معاشی اشاریوں، بیرونی مالیاتی استحکام، حکومتی تیاریوں اور پالیسی اقدامات کی بدولت پاکستان اس قسم کے بیرونی دباؤ سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔




















































































