بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت نے اپنی والدہ اور نامور اداکارہ نرگس دت کے انتقال سے قبل گزرنے والے مشکل دنوں کو یاد کرتے ہوئے اپنی زندگی کے ایک انتہائی جذباتی دور کے بارے میں گفتگو کی ہے۔
67 سالہ اداکار نے ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ 1981ء میں ان کی پہلی فلم روکی کی شوٹنگ جاری تھی، اسی دوران ان کی والدہ نرگس دت لبلبے کے کینسر کے باعث کوما میں چلی گئی تھیں۔
سنجے دت کے مطابق ان کے والد، معروف اداکار سنیل دت، نے انہیں فلم کی شوٹنگ مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی، حالانکہ اس وقت ان کی والدہ کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ایسے حالات میں شوٹنگ مکمل کرنا کیوں ضروری ہے، لیکن والد کی ہدایت پر انہوں نے اپنا کام مکمل کیا اور پھر والدہ کے پاس واپس آ گئے۔
سنجے دت نے کہا کہ انہوں نے اپنی والدہ کو زندگی کے لیے بھرپور جدوجہد کرتے دیکھا اور انہیں محسوس ہوتا تھا کہ نرگس دت اپنے گھر واپس آنا چاہتی تھیں۔
ان کے بقول، نرگس دت گھر واپس آنے تک مسلسل زندگی کی جنگ لڑتی رہیں، تاہم گھر پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد وہ انتقال کر گئیں۔
نرگس دت 1981ء میں 51 برس کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں، جبکہ سنیل دت 2005ء میں 75 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔





















































































