مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔
وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات منعقد ہوئے اور عوام نے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے وژن پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 20 نشستوں پر پولنگ ہوئی، جن میں سے 13 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے تین نشستیں حاصل کیں۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق 12 مہاجر نشستوں میں سے 10 پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ دو نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ایک منتخب حکومت قائم ہونے جا رہی ہے، جو عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔ ان کے مطابق نواز شریف نے عوام سے جو وعدے کیے تھے، ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مظفرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض کارکنوں نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر احتجاج کیا، جہاں پولیس کی مداخلت کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس صورت حال کے باعث ووٹنگ کا تناسب متاثر ہوا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو مظفرآباد کی چار نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی، جبکہ ان کے بقول دھاندلی کے الزامات لگانے والی جماعتیں محدود کامیابی حاصل کر سکیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر متعلقہ فریقین کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔





















































































