برطانوی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکا کے طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں بڑی تعداد میں انتہائی درست نشانہ لگانے والے میزائل استعمال کیے، جس کے نتیجے میں ان ہتھیاروں کی دستیابی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل میں ایران کے خلاف مزید وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا فیصلہ کرتے ہیں تو امریکی فوج کو فضائی حملوں اور بمباری کے مشنز پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ میزائلوں کے ذخائر میں کمی روس اور چین جیسے ممالک کے خلاف امریکا کی عسکری حکمتِ عملی اور دفاعی صلاحیتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور فوجی مشیروں نے خلیج فارس میں موجود امریکی اتحادیوں کی سلامتی اور فوجی سازوسامان کے ذخائر میں کمی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اردن، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو بھی ممکنہ خطرات لاحق ہیں اور ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات موجود ہیں۔
امریکی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان اطلاعات کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔





















































































