آسٹریلیا میں پناہ لینے والی ایرانی خواتین فٹبالرز فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانیزادہ نے آسٹریلوی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہاں ایک محفوظ پناہ گاہ میسر آئی ہے، جہاں وہ اپنی زندگی کو ازسرِنو تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی امید رکھتی ہیں۔
جمعہ کے روز جاری اپنے پہلے عوامی بیان میں دونوں کھلاڑیوں نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت اور مقامی کمیونٹی کی جانب سے ملنے والی ہمدردی اور تعاون نے انہیں نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ ایک محفوظ ماحول میں زندگی گزارنے کا اعتماد بھی فراہم کیا ہے، جہاں وہ بغیر کسی خوف کے اپنے معمولات زندگی جاری رکھ سکتی ہیں اور اپنے کھیل کو بھی آگے بڑھا سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نیا موقع ان کے لیے ایک نئی شروعات ہے، جہاں وہ اپنے کیریئر اور ذاتی زندگی کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کریں گی اور اپنے خوابوں کو عملی شکل دینے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی۔
یہ دونوں کھلاڑی رواں سال ویمنز ایشین کپ کے دوران آسٹریلیا آئی تھیں، تاہم انہوں نے ایران واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں اپنی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات لاحق تھے، جس کے باعث انہوں نے آسٹریلیا میں رہنے اور محفوظ مستقبل کی تلاش کو ترجیح دی۔
























































































